اس کے چہرے میں نہ جانے کیا تھا جو ہر دفعہ میرے قدم جکڑ لیتا تھا ۔ گہری سانولی رنگت پر شربتی آنکھیں ، عجیب سا امتزاج تھ۔ا۔ الہڑ جوانی کی چمک نے بھوک اور غلاظت پر پردہ سا ڈال دیا تھا۔ پندرہ کا سن رہا ہوگا ۔کبھی چھوٹے بچوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی دکھائی دیتی تو کبھی بردبار عورت کی طرح سنجیدگی سے فٹ پاتھ پر بیٹھی نظر آتی۔ اس کا پورا خاندان اس فٹ پاتھ پر بھیک مانگتا تھا لیکن اسے کبھی میں نے باقاعدہ بھیک مانگتے نہ دیکھا تھا۔ لوگ آتے جاتے خود ہی کچھ نہ کچھ تھما دیتے ۔ میں بھی انہی میں سے ایک تھی ۔ نام جانے اس کا کیا تھا ۔ فقیروں کا بھی نام تو ہوتا ہی ہے پر پوچھتا کون ہے۔
ایک دن وہ چلی گئی ۔ اس کے نہ ہونے کا احساس بھی مجھے تب ہوا جب کئی دن وہ نہ دکھی۔ خیر فقیر بھی اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں ۔ میونسپلٹی اور پولیس والے تنگ کرتے ہیں تو ٹھیہ بدلنا پڑتا ہے ۔ چند دن میں بھی بھول بھال گئی۔
کچھ دن بلکہ کجھ ماہ بعد وہ پھر نظر آئی۔ اسے دیکھ کر میں ششدر رہ گئی ۔ الہڑ جوانی جیسے یکدم غائب ہو گئی تھی ۔ اس کی گود میں بچہ تھا۔وہ تو ابھی خود بچی تھی ۔ مجھے صدمہ ہوا ۔ بےچاری بچی ۔ مجھے اپنی طرف آتا دیکھ اس کے خشک لبوں پر شناسا دل آویز مسکراہٹ دوڑ گئی ۔ تو اس لئے غائب ہوئی تھیں تم۔ میں نے نزدیک جا کر کہا۔ کرا دی ماں پاپ نے شادی۔ وہ بس مسکراتی رہی۔
کیا نام رکھا ہے ؟
" سنکل پلیٹ" وہ ہنس دی۔
سنگل یہ بھی کوئی نام ہوا
جھلی
ابا تو کچھ اور بلاتا ہے جی، میں سنگل پلیٹ ہی کہتی ہوں ۔
کیوں مگر ، کوئی ڈھنگ کا نام رکھو ، اتنا پیارا بچہ ہے ۔
مجھے نام کہاں پتہ ہیں جی، بس یہ سنگل پلیٹ بریانی کے بدلے ملا تھا ناں جی۔
مطلب ؟
کچھ نئی جی، ابا کے نشے کے پیسے پورے نہیں ہو رہے تھے ناں، اس نے ہم سب کا کھانا بند کیا ہوا تھا۔ ٹھیکیدار نے ہم سب کو سنگل پلیٹ بریانی کھلائی ، بدلے میں اسے چھوڑ دیا پیٹ میں۔
میرے پاؤں پتھرا گئے ، زبان لفظ بھول گئی۔ اور وہ یوں گویا تھی جیسے کسی ڈش کی ریسپی بتا رہی ہو۔
چار لوگوں کا پیٹ بھرا اور پانچواں پیٹ مفت میں مل گیا ۔
وہ ہنس رہی تھی پر اس کی آنکھوں میں گہرے سائے منڈلا رہے تھے۔
اب لوگ اچھی بھیک دیتے ہیں جی، میں روز سنگل پلیٹ بریانی کھاتی ہوں ۔
میں چند نوٹ اس کے ہاتھ تھما کر چپ چاپ پلٹ گئی۔ اس ساڑھے چار فٹ کی لڑکی نے مجھے بھوک کی ضرب تفریق سمجھا دی تھی۔
Comments
Post a Comment